جہلم میں بلدیاتی انتخابات: کون جیتے گا؟ – انتخابی مہم، امیدواروں کا تجزیہ اور عوامی رائے۔
جہلم (نمائندہ خصوصی) – جہلم میں بلدیاتی انتخابات کی تیاریاں عروج پر پہنچ چکی ہیں۔ مختلف سیاسی جماعتوں نے اپنی انتخابی مہم کا آغاز کر دیا ہے، جبکہ آزاد امیدوار بھی میدان میں اتر آئے ہیں۔
شہر کے مختلف حلقوں میں سیاسی گہما گہمی دیکھی جا رہی ہے، جلسے، ریلیاں اور کارنر میٹنگز منعقد کی جا رہی ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف، پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی سمیت دیگر جماعتیں عوامی حمایت حاصل کرنے کے لیے سرگرم ہیں۔
مقامی سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اس بار کا انتخاب کانٹے دار ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ عوام مہنگائی، ترقیاتی کاموں اور دیگر مسائل پر اپنے ووٹ کا استعمال کریں گے۔ شہریوں نے بھی اپنے نمائندوں سے بہتر سہولیات کی امیدیں وابستہ کر رکھی ہیں۔
ضلعی انتظامیہ نے انتخابات کے دوران امن و امان برقرار رکھنے کے لیے سیکیورٹی پلان ترتیب دے دیا ہے، جبکہ انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزیوں پر سخت کارروائی کا عندیہ بھی دیا گیا ہے۔
دیکھنا یہ ہے کہ عوام کس پارٹی یا امیدوار پر اعتماد کرتے ہیں اور جہلم کا سیاسی نقشہ کس حد تک تبدیل ہوتا ہے۔
کر دیا ہے، جبکہ آزاد امیدوار بھی میدان میں اتر آئے ہیں۔
شہر کے مختلف حلقوں میں سیاسی گہما گہمی دیکھی جا رہی ہے، جلسے، ریلیاں اور کارنر میٹنگز منعقد کی جا رہی ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف، پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی سمیت دیگر جماعتیں عوامی حمایت حاصل کرنے کے لیے سرگرم ہیں۔
مقامی سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اس بار کا انتخاب کانٹے دار ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ عوام مہنگائی، ترقیاتی کاموں اور دیگر مسائل پر اپنے ووٹ کا استعمال کریں گے۔ شہریوں نے بھی اپنے نمائندوں سے بہتر سہولیات کی امیدیں وابستہ کر رکھی ہیں۔
ضلعی انتظامیہ نے انتخابات کے دوران امن و امان برقرار رکھنے کے لیے سیکیورٹی پلان ترتیب دے دیا ہے، جبکہ انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزیوں پر سخت کارروائی کا عندیہ بھی دیا گیا ہے۔
دیکھنا یہ ہے کہ عوام کس پارٹی یا امیدوار پر اعتماد کرتے ہیں اور جہلم کا سیاسی نقشہ کس حد تک تبدیل ہوتا ہے۔
کر دیا ہے، جبکہ آزاد امیدوار بھی میدان میں اتر آئے ہیں۔
شہر کے مختلف حلقوں میں سیاسی گہما گہمی دیکھی جا رہی ہے، جلسے، ریلیاں اور کارنر میٹنگز منعقد کی جا رہی ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف، پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی سمیت دیگر جماعتیں عوامی حمایت حاصل کرنے کے لیے سرگرم ہیں۔
مقامی سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اس بار کا انتخاب کانٹے دار ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ عوام مہنگائی، ترقیاتی کاموں اور دیگر مسائل پر اپنے ووٹ کا استعمال کریں گے۔ شہریوں نے بھی اپنے نمائندوں سے بہتر سہولیات کی امیدیں وابستہ کر رکھی ہیں۔
ضلعی انتظامیہ نے انتخابات کے دوران امن و امان برقرار رکھنے کے لیے سیکیورٹی پلان ترتیب دے دیا ہے، جبکہ انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزیوں پر سخت کارروائی کا عندیہ بھی دیا گیا ہے۔
دیکھنا یہ ہے کہ عوام کس پارٹی یا امیدوار پر اعتماد کرتے ہیں اور جہلم کا سیاسی نقشہ کس حد تک تبدیل ہوتا ہے۔
کر دیا ہے، جبکہ آزاد امیدوار بھی میدان میں اتر آئے ہیں۔
شہر کے مختلف حلقوں میں سیاسی گہما گہمی دیکھی جا رہی ہے، جلسے، ریلیاں اور کارنر میٹنگز منعقد کی جا رہی ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف، پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی سمیت دیگر جماعتیں عوامی حمایت حاصل کرنے کے لیے سرگرم ہیں۔
مقامی سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اس بار کا انتخاب کانٹے دار ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ عوام مہنگائی، ترقیاتی کاموں اور دیگر مسائل پر اپنے ووٹ کا استعمال کریں گے۔ شہریوں نے بھی اپنے نمائندوں سے بہتر سہولیات کی امیدیں وابستہ کر رکھی ہیں۔
ضلعی انتظامیہ نے انتخابات کے دوران امن و امان برقرار رکھنے کے لیے سیکیورٹی پلان ترتیب دے دیا ہے، جبکہ انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزیوں پر سخت کارروائی کا عندیہ بھی دیا گیا ہے۔
دیکھنا یہ ہے کہ عوام کس پارٹی یا امیدوار پر اعتماد کرتے ہیں اور جہلم کا سیاسی نقشہ کس حد تک تبدیل ہوتا ہے۔
