ملک گیر سیکیورٹی کا گھیرا تنگ: ٹی ایل پی مارچ کے باعث جہلم پُل سمیت اہم شاہراہیں اور ریڈ زون سیل

( رپورٹ : ملک حسان قذافی جہلم )
تحریک لبیک پاکستان (TLP) کے آج (جمعہ، 10 اکتوبر 2025) ہونے والے مجوزہ لانگ مارچ کے تناظر میں، انتظامیہ نے ملک کے حساس مقامات اور شاہراہوں پر سیکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے ہیں۔ لاہور، راولپنڈی اور اسلام آباد میں زندگی کا معمول شدید متاثر ہوا ہے، جہاں ریاست کی رٹ برقرار رکھنے کے لیے اہم ترین راستے بند کر دیے گئے ہیں۔
بندش کے اہم مقامات اور وجوہات
مارچ کو وفاقی دارالحکومت میں داخل ہونے سے روکنے کے لیے تین اہم مقامات پر سخت ترین بندشیں لگانے کی حکمت عملی تیار ہے۔ اہم مقام دریائے جہلم کا پُل (جی ٹی روڈ) ہے، جہاں مارچ کو پنجاب سے آگے بڑھنے سے روکنے کے لیے کنٹینرز لگا کر راستے کو مکمل سیل کرنے کی تیاری مکمل ہے۔

سب سے حساس مقام فیض آباد انٹرچینج ہے، جو راولپنڈی اور اسلام آباد کے درمیان ایک مرکزی جنکشن ہے۔ یہاں بھی کنٹینرز نصب ہیں تاکہ TLP کارکنان کو وفاقی دارالحکومت میں داخل ہونے سے روکا جا سکے۔

فیض آباد کی بندش کے سبب میٹرو بس سروس معطل ہے اور جڑواں شہروں کے درمیان آمد و رفت کا نظام درہم برہم ہو چکا ہے۔

نیز اہم مقام اسلام آباد کا ریڈ زون ہے، جسے وزیر اعظم ہاؤس، پارلیمنٹ، سپریم کورٹ اور غیر ملکی سفارت خانوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کی غرض سے مکمل سیل کیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں، مارچ کے آغاز سے قبل لاہور میں TLP کے دفاتر کے گرد و نواح میں تشدد آمیز جھڑپیں بھی رپورٹ ہوئی ہیں، جس کے بعد لاہور میں بھی کئی سڑکوں پر سیکیورٹی چیکس بڑھا دیے گئے ہیں اور دفعہ 144 کے تحت عوامی اجتماعات پر پابندی عائد ہے۔
مذہبی جماعت کے احتجاج کے باعث ریڈ زون سیل کر دیا گیا
ریڈ زون کے چاروں اطراف کنٹینرز پہنچا دیئے گئے
احتیاطی تدابیر اور متبادل راستے
موجودہ صورتحال میں، شہریوں کو غیر ضروری سفر سے مکمل گریز کرنے کی ہدایت کی گئی ہے اور اگر سفر ناگزیر ہو تو صرف متبادل راستوں کا استعمال کریں۔ جی ٹی روڈ (N-5) پر دریائے جہلم پُل کی بندش کے باعث، لاہور سے اسلام آباد/راولپنڈی کے لیے سب سے محفوظ اور واحد قابل عمل متبادل راستہ موٹروے M-2 ہے۔ تمام مسافروں کو سختی سے ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ سفر سے قبل موٹروے پولیس (NH&MP) کی ہیلپ لائن سے تازہ ترین معلومات ضرور حاصل کریں۔ اسلام آباد پہنچنے کے بعد، سیکیورٹی کی وجہ سے فیض آباد انٹرچینج اور ریڈ زون میں داخلے کی کوشش نہ کریں، بلکہ راولپنڈی اور اسلام آباد کے لیے مخصوص متبادل راستوں، جیسے چکری انٹرچینج یا دیگر موٹروے ایگزٹس کا استعمال کریں۔ تمام شہریوں کو یہ بھی مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ اپنے ساتھ شناختی دستاویزات رکھیں، ہنگامی صورتحال کے لیے وقت سے زیادہ احتیاطی وقت لے کر نکلیں اور پرتشدد علاقوں سے مکمل طور پر دور رہیں۔
