تھانہ سٹی جہلم میں انجینئر مرزا پہ توہین رسالت 295C اور پیک ایکٹ کی FIR درج اور علماء اکرام کا رد عمل
ایکشن کمیٹی ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم
آج مورخہ :26.8.2025 بروز منگل
گستاخ رسول انجینئر مرزا کی گرفتاری کے بعد
ایک مرتبہ پھر جہلم کے علماء کرام کی DC جہلم میثم عباس سے ملاقات
علماء کرام کا کہنا تھا کہ ہمارا مطالبہ ابھی تک ادھورا ہے
ہمارا مطالبہ یہ کہ مرزا جہلمی کے خلاف دفعہ 295C کے تحت مقدمہ درج کرکے اس میں اس کی گرفتاری ڈالی جائے
اور اس کے گند خانے (اکیڈمی) کو مکمل طور پر بند کیا جائے
مرزا انجینئرکے متعلق لاٸحہ عمل تحریک لبیک پاکستان ضلع جہلم کا مطالبات
صرف زیر دفعہ 295c پرچہ قبول نہیں۔
جتنی بھی گستاخیاں ہوئی ان سب کے خلاف پرچہ ہو اور تمام دفعات شامل کی جائیں ۔ ہر ایک گستاخی کا حساب لیا جائے گا۔
عاشقان رسول 29 اگست ، تحفظ ناموس رسالت کی بھرپور تیاری کریں
علامہ عاصم رضوی تحریک لبیک پاکستان ضلع جہلم
تھانہ سٹی جہلم میں انجینئر مرزا پہ توہین رسالت 295C کی FIR درج

تھانہ سٹی جہلم میں انجینئر مرزا پہ توہین رسالت 295C کی FIR درج
یوٹیوبر اور مذہبی اسکالر انجینئر محمد علی مرزا کے خلاف تھانہ سٹی میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے، مقدمے کا اندراج پیکا ایک کے تحت ہوا۔
تفصیلات کے مطابق یوٹیوبر اور مذہبی اسکالر انجینئر محمد علی مرزا کے خلاف تھانہ سٹی جہلم میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق مقدمہ ایک شہری حمیر علی قادری کی مدعیت میں پیکا ایکٹ اور تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295 سی کے تحت درج کیا گیا ہے۔
گذشته رات انجینر محمد علی مرزا کو حراست میں لے کر تھری ایم پی او کے تحت جیل منتقل کیا گیا تھا۔ ڈپٹی کمشنر جہلم کی جانب سے جاری حکمنامے کے مطابق انہیں 30 روز کے لیے ڈسٹرکٹ جیل جہلم میں نظر بند رکھا جائے گا۔ حکمنامہ مغربی پاکستان پبلک آرڈر آرڈینس 1980 کی دفعہ 3(1) کے تحت جاری کیا گیا۔
ڈپٹی کمشنر کے حکم نامے میں ڈی پی او کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ محمد علی مرزا کی تقریریں قابل اعتراض، متنازع اور اشتعال انگیز ہیں جو عوامی امن و سکون اور مذہبی ہم آہنگی کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔ حکمنامے میں مزید کیاگیا کہ مرزا کے بیانات نفرت اور فرقہ وارانہ تقسی کو ہوا دیتے ہیں جبکہ ان کی سرگرمیاں امن عامہ کے لیے نقصان دہ ہیں ۔
پولیس نے نا خوشگوار صورتحال سے بچنے کے لیے انجنیئر محمد علی مرزا کی اکیڈمی کو سیل کر دیا ہے جبکہ ان کے گھر اور اکیڈمی کے باہر پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے۔
ڈپٹی کمشنر کے مطابق نظر بندی کے دوران کسی بھی خلاف ورزی کی صورت میں مزید کارروائی حمل میں لائی جائے گی۔ تاہم مرزا کو اس فیصلے کے خلاف مانجاب ہوم ڈیپارٹمنٹ میں درخواست دینے کا حق حاصل ہے۔ حکمنامہ متعلقہ حکام بشمول ایڈیشنل چیف سیکرٹری پنجاب، آئی جی پنجاب اور چیف کمشنر راولپنڈی کو بھی ارسال کر دیا گیا ہے۔
