
بیورو رپورٹ طاہر محمود
لاہور ہائیکورٹ کے سینئر جج جسٹس شمس محمود مرزا نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے، جسٹس مرزا نے اپنا استعفیٰ صدر مملکت آصف علی زرداری کو بھجوا دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق، جسٹس مرزا نے یہ قدم 27ویں آئینی ترمیم کے نفاذ کے بعد اٹھایا ہے، جس نے عدلیہ کے اختیارات اور ججز کے تبادلے کے طریقہ کار میں تبدیلی کی ہے۔ وہ لاہور ہائیکورٹ کے پہلے جج ہیں جنہوں نے اس متنازعہ ترمیم کے خلاف احتجاجاً استعفیٰ دیا ہے۔ اس سے قبل سپریم کورٹ کے دو سینئر ججز، جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس اطہر من اللہ بھی اسی ترمیم کے خلاف اپنے عہدوں سے مستعفی ہو چکے ہیں۔ جسٹس شمس محمود مرزا 22 مارچ 2014 کو لاہور ہائیکورٹ کے ایڈیشنل جج بنے تھے اور وہ انتظامی کمیٹی کے بھی ممبر تھے۔ ان کا استعفیٰ عدالتی حلقوں میں تشویش کا باعث بنا ہے اور ملک میں جاری عدالتی بحران اور آئینی تبدیلیوں کے خلاف ججز کے بڑھتے ہوئے احتجاج کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ ان کے استعفے کو اعلیٰ عدلیہ کی تقسیم اور عدالتی آزادی پر حملے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
