عزم و استقلال کا مینار: حاجی تاج محمد خان اور پاکستان سول سولجر موومنٹ

تحریر و ترتیب : ملک حسان قذافی
ارضِ پاک کی تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی ملک و قوم پر کڑا وقت آیا، اس مٹی کے بیٹوں نے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرنے میں کبھی دریغ نہیں کیا۔ اسی جذبے کو ریٹائرمنٹ کے بعد بھی زندہ رکھنے اور سول سوسائٹی میں ڈسپلن اور حب الوطنی کے بیج بونے کے لیے پاکستان سول سولجر موومنٹ کا قیام عمل میں لایا گیا، جس کی قیادت چیئرمین حاجی تاج محمد خان جیسی مدبر شخصیت کر رہی ہیں۔ حاجی تاج محمد خان کی خدمات محض ایک تنظیم تک محدود نہیں، بلکہ وہ ایک ایسی سوچ کے علمبردار ہیں جو عوام اور ریاستی اداروں کے درمیان حائل خلیج کو پاٹنے اور قومی ہم آہنگی کو فروغ دینے کے لیے دن رات کوشاں ہے۔ ان کی قیادت میں یہ تنظیم "پاکستان پہلے” کے فلسفے پر عمل پیرا ہے، جو نوجوان نسل کی نظریاتی تربیت میں مصروفِ عمل ہے۔
حاجی تاج محمد خان کی شخصیت کا خاصہ ان کا وہ بے لوث جذبہ ہے جس کے تحت انہوں نے سابق فوجیوں اور عام شہریوں کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کیا ہے۔ ان کی زیرِ نگرانی جاری منشور کے مطابق، تنظیم کا بنیادی مقصد ہر پاکستانی شہری کو ملک کی اہمیت سے آگاہ کرنا اور ان کے دلوں میں جغرافیائی و نظریاتی سرحدوں کی حفاظت کا احساس بیدار کرنا ہے۔ چیئرمین کی دوراندیشی کا منہ بولتا ثبوت یہ ہے کہ انہوں نے سوشل میڈیا جیسے جدید محاذ پر بھی ملک دشمن عناصر کا مقابلہ کرنے اور پروپیگنڈے کا توڑ کرنے کو اپنی ترجیحات میں شامل رکھا ہے۔ ان کی یہ کاوشیں نہ صرف فرقہ واریت اور لسانی تعصب کے خاتمے کے لیے ڈھال ثابت ہو رہی ہیں بلکہ معاشرے میں ایک ذمہ دار شہری کا تصور بھی اجاگر کر رہی ہیں۔
آج جب پاکستان کو مختلف داخلی اور خارجی چیلنجز کا سامنا ہے، حاجی تاج محمد خان کی قیادت میں پاکستان سول سولجر موومنٹ جیسے ادارے ریاست کے لیے ایک مضبوط ستون کی حیثیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے یہ ثابت کیا ہے کہ وردی اتارنے کے بعد بھی ایک سپاہی کا عزم جوان رہتا ہے اور وہ سماجی برائیوں کے خاتمے، قدرتی آفات میں ریلیف کی فراہمی اور قومی سلامتی کے اداروں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہو کر ملک کی تقدیر بدل سکتا ہے۔ بلاشبہ، حاجی تاج محمد خان کی خدمات اور ان کا یہ مشن آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ہے، جو ہمیں سکھاتا ہے کہ ذاتی مفادات سے بالا تر ہو کر ہی قومیں وقار حاصل کرتی ہیں۔
