
جہلم (رپورٹ:ملک حسان): ضلع پولیس آفیسر (ڈی پی او) جہلم، جناب طارق عزیز سندھو نے تھانہ صدر کے علاقہ میں ایک طالب علم پر مبینہ تشدد کی سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو کا فوری اور سخت نوٹس لیا ہے۔ یہ واقعہ پولیس کی جانب سے اختیارات کے غلط استعمال اور شہریوں کے ساتھ غیر پیشہ ورانہ رویے کی ایک سنگین مثال کے طور پر سامنے آیا تھا، جس پر ڈی پی او نے تیزی سے کارروائی کرتے ہوئے پولیس کے وقار اور عوامی اعتماد کو بحال کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔
🔍 تجزیہ و تفصیل:
ڈی پی او جہلم طارق عزیز سندھو نے وائرل ویڈیو میں نظر آنے والے پولیس اہلکاروں کی فوری شناخت کروائی اور واقعے میں ملوث کانسٹیبلان کو فوری طور پر معطل (Suspend) کر دیا۔ معاملے کی مکمل شفافیت اور غیر جانبداری کو یقینی بنانے کے لیے، انہوں نے ایس ڈی پی او صدر سرکل کی سربراہی میں ایک خصوصی انکوائری کمیٹی قائم کی۔ کمیٹی نے اپنی تفصیلی اور غیر جانبدارانہ تحقیقاتی رپورٹ ڈی پی او جہلم کو پیش کی، جس میں ذمہ دار پولیس اہلکاروں کے خلاف لگائے گئے الزامات کی واضح طور پر تصدیق کی گئی۔ الزامات ثابت ہونے پر، ڈی پی او طارق عزیز سندھو نے ملوث اہلکاروں کے خلاف سخت محکمانہ کارروائی (Departmental Action) کا حکم جاری کیا۔
ڈی پی او جہلم نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ جہلم پولیس قانون کی بالادستی، شہریوں کے جان و مال کے تحفظ اور پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کی ادائیگی پر مکمل یقین رکھتی ہے۔ انہوں نے سخت پیغام دیا کہ کسی بھی اہلکار کی جانب سے اختیارات کا ناجائز استعمال یا شہریوں کے ساتھ ناروا سلوک ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا، اور یہ کارروائی مستقبل میں ایسے واقعات کی حوصلہ شکنی کرنے اور پولیس کے وقار و عوامی اعتماد میں اضافہ کرنے کے لیے ایک مثال ہو گی۔


