
انا للہ وانا الیہ راجعون
تحریر وترتیب محمد زاہد مجید انور
صحافت کے اُفق پر آج ایک اور چراغ بجھ گیا۔ دل انتہائی رنجیدہ اور آنکھیں نم ہیں کہ میرے والد مرحوم حاجی عبد المجید انور کے نہایت پیارے، مخلص اور درینہ ساتھی، سینئر و بزرگ صحافی عطا محمد عقیل صاحب آف تحصیل تاندلیانوالہ خالقِ حقیقی سے جا ملے۔انا للہ وانا الیہ راجعون۔عطا محمد عقیل صاحب کا شمار ان با prinsip اور باوقار شخصیات میں ہوتا تھا جنہوں نے اپنی پوری زندگی حق اور سچ کی پاسداری کے نام کر دی۔ وہ تقریباً 40 سال تک صحافت جیسے مقدس پیشے سے وابستہ رہے اور اس دوران نہ صرف خبر کی دنیا میں اپنا منفرد مقام بنایا بلکہ نوجوان صحافیوں کیلئے ایک روشن مثال اور علمی درسگاہ کا درجہ رکھتے تھے چالیس سالہ صحافتی جدوجہد چار دہائیوں پر محیط ان کا سفر مسلسل محنت، دیانت، اصول پسندی اور ذمہ دارانہ رپورٹنگ کا شاہکار تھا۔ نمائندہ جنگ اور جیو نیوز کے پلیٹ فارم سے انہوں نے ہر دور میں حق بات کہی، مظلوم کا ساتھ دیا، اور صحافت کو ایک عبادت سمجھ کر نبھایا،ان کی تحریر میں سچ کی خوشبو اور لہجے میں وقار جھلکتا تھا۔ وہ کبھی مفاد پرستی، جھوٹ یا سنسنی خیزی کے قریب نہ گئے۔ ہمیشہ متوازن، معتبر اور بااصول صحافت کی بنیاد رکھی۔ایک بہترین انسان، ایک سچے ساتھی میرے والد مرحوم حاجی عبد المجید انور کے ساتھ ان کا رشتہ صرف صحافت تک محدود نہ تھا بلکہ محبت، خلوص، عزت اور دیرینہ رفاقت پر مبنی تھا۔ دونوں نے مل کر ضلع میں عوامی مسائل کو اجاگر کیا، سچ کی شمع جلائے رکھی اور مشکل ترین حالات میں بھی پیشہ ورانہ ایمانداری پر سمجھوتہ نہ کیا۔عطا محمد عقیل صاحب نہایت ملنسار، شفیق، باوقار اور اصول پرست شخصیت تھے۔ ان کا اخلاق، نرم گفتاری اور دوسروں کیلئے احترام انہیں سب کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رکھے گا۔نمازِ جنازہ کا اعلان۔۔۔مرحوم کی نمازِ جنازہ کل ہفتے کے روز صبح 10 بجے تحصیل تاندلیانوالہ بڑے قبرستان میں ادا کی جائے گی۔تمام احباب، دوست، صحافتی ساتھیوں اور معزز شہریوں سے شرکت کی درخواست ہے۔دعا۔۔اللہ تعالیٰ مرحوم عطا محمد عقیل صاحب کی مغفرت فرمائے،انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے،ان کی لغزشوں کو معاف فرمائےاور پسماندگان کو صبرِ جمیل اور حوصلہ عطا کرے۔
آمین یا رب العالمین۔
