سیدہ فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا
از قلم: صاحبزادہ مفتی محمد علی عزیر مصطفوی
PhD scholar
پرنسپل منہاج شریعہ کالج ٹیکسلا۔
مخلوق کے سلطان کی تسکین ہے زہرا,سلام اللہ علیہا
یٰس بھی کہتی ہے کہ یٰس ہے زہرا ,سلام اللہ علیہا
اسلام نے زہرا کی فضیلت میں کہا ہے,سلام اللہ علیہا
میں دینِ محمد ہوں میرا دین ہے زہرا ,سلام اللہ علیہا
وہ کون ہے جو اپنے وجود سے نبوت کے شجر کو ہمیشہ کے لیے ثمر بار کردے، اور جس کے آنگن سے امامت کے لازوال لعل پیدا ہوں؟ وہ کون ہے جس کی رضا میں رب کی رضا اور جس کی ناراضی میں رب کا غضب پنہاں ہو؟ یہ کائناتِ عصمت کی وہ یکتا ہستی ہیں جنہیں آسمان والے فاطمہ اور زمین والے خاتونِ جنت کے نام سے پکارتے ہیں۔ سیدہ طیبہ طاہرہ عابدہ زاہدہ راکعہ ساجدہ عالمہ غیر معلمہ راضیہ مرضیہ فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا تاجدارِ کائنات ﷺ کی کل کائنات اور جگر گوشہ ہیں جن کے فضائل کا تذکرہ سورۂ کوثر اور آیتِ تطہیر آیت مباہلہ کے ذریعے خود کلام اللہ نے کیا۔
آپ کی ذات علم و حکمت، ایثار و محبتِ الہی، طہارت و نفاست، اور صداقت کا عظیم مرقع تھی۔ سیدہ فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی شان کا سب سے بلند درجہ خود تاجدارِ کائنات ﷺ کے حضور والہانہ نسبت و مقام ہے۔ جب مکہ کی اذیتوں اور مظالم نے حضورﷺ کو گھیر لیا تھا تب وہ ننھی معصوم بیٹی جو اپنے والد کے لیے ماں کی سی شفقت اور حوصلہ لے کر حاضر ہوتیں۔ اپنے ناتواں ہاتھوں سے حضور ﷺ کے ماتھے سے گردِ ستم کو صاف کرنا اور دلجوئی کے کلمات کہنا، اُس تعلق کی گہرائی کو بیان کرتا ہے جس پر حضور ﷺ نے آپ کو اُمّ اَبِیہا یعنی اپنے باپ کی ماں کا لقب عطا فرمایا۔ یہ لقب صرف محبت نہیں بلکہ گہری محبت و عقیدت پر دلالت کرتا ہے۔آپ کی ازدواجی زندگی حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے ساتھ گزری، دنیا کو زہد اور قناعت کی عملی تصویر دکھاتی ہے۔ سادگی آپ کے گھر کا زیور تھی، جہاں کئی کئی دن دسترخوان پر نانِ جویں کے سوا کچھ میسر نہ ہوتا۔ اس کے باوجود آپ کے جودوسخا کا عالم یہ تھا کہ مسلسل تین دن روزہ افطار کے وقت اپنا واحد کھانا بالترتیب یتیم، مسکین اور اسیر کو عطا کر دیا۔یہ وہ بے مثال عمل ہے جس پر پروردگار عالم نے آیات نازل فرما کے اس خانوادے کے اخلاص اور سخا کو ہمیشہ کے لیے لوحِ محفوظ پر ثبت کر دیا۔
اس گھر کی دہلیز پر آسائشیں بے معنی تھیں، کیونکہ یہ وہ گھر تھا جہاں فرشتے اترتے تھے۔
سیدہ فاطمہ زہراؑ کی عبادت اور شب بیداری، عارفانہ زندگی کا درخشاں پہلو ہے۔ وہ نماز میں اس قدر محو ہو جاتیں کہ خوفِ خدا اور استغراق کی کیفیت طاری ہو جاتی۔ آپؑ کی شب بیداری اور مناجات نے اُمت کو یہ درس دیا کہ دنیاوی ذمہ داریوں اور مشقتوں کے باوجود خالق سے تعلق کی گہرائی کو کیسے برقرار رکھا جاتا ہے۔ جب آپ محراب میں کھڑی ہوتیں تو آپ کی دعاؤں میں اپنی ذات کا سوال کم اور اُمتِ محمدیہ کی مغفرت، فلاح اور ہدایت کی التجائیں زیادہ ہوتی تھیں۔ یہ وہ روحانی مقام ہے جہاں ایک بیٹی، ایک بیوی اور ایک ماں اپنے خالق کے حضور کھڑے ہو کر پوری انسانیت کے لیے شفاعت اور خیر کا سامان کرتی ہے۔سیدہ فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی حیات، کائنات کی ہر عورت کے لیے عظمت، شرم و حیا، علم اور استقامت کا ایک مکمل نمونہ ہے۔ ان کی سیرت کا ہر گوشہ اس بات کا ابدی ثبوت ہے کہ حقیقی عظمت ایمان کی پختگی، اخلاصِ عمل اور کردار کی بلندی ہے۔اگر آج عورتوں کے لیے سیدہ کونین سلام اللہ علیہا آئیڈیل بن جائیں اور مردوں کے آئیڈیل ذات محمد مصطفی ﷺ اور مولا علی علیہ السلام کی حیات ہو جاۓ تو ہمارے گھر حسینی تربیت گاہیں بن جائیں اور ہمیں زندگی گزارنے کا سلیقہ آجاۓ۔ حضرت سیدہ فاطمة الزہرہ۔سلام اللہ علیہا کی زندگی ہمارے معاشرے کی عورت کو یہ سکھاتی ہے کہ ایک عورت کی سب سے بڑی طاقت اس کی شرم و حیا، اس کا علم اور اس کا کردار ہے۔ اس مادی دور میں جہاں سوشل میڈیا کی چکا چوند رشتوں اور اخلاقیات کو نگل رہی ہے، وہاں اہل بیت کی سیرت کو اپنا کر ہم ایک مصطفوی معاشرے کی بنیاد رکھ سکتے ہیں۔
اللہ ہمارا حامی و ناصر ہو۔ آمین
