
جہلم (11 جنوری 2026): ملاوٹ مافیا کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے، ڈپٹی کمشنر جہلم میر رضا اوزگن کی ہدایت پر پنجاب فوڈ اتھارٹی جہلم نے جی ٹی روڈ پر رات گئے ناکہ بندی کر کے دودھ کی ترسیل کرنے والی گاڑیوں کی کڑی نگرانی کی۔ اس آپریشن کے دوران دودھ کے 4 ٹینکرز اور گاڑیوں کا معائنہ کیا گیا، جن میں سے جدید لیبارٹری ٹیسٹ کے بعد صرف 1 گاڑی کا دودھ معیار پر پورا اترا جبکہ 3 گاڑیوں میں موجود دودھ مضرِ صحت ثابت ہوا۔
پنجاب فوڈ اتھارٹی کی ٹیم نے نمونے فیل ہونے پر فوری اور سخت قانونی کارروائی عمل میں لاتے ہوئے مجموعی طور پر 1 لاکھ 15 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا۔ حفظانِ صحت کے اصولوں کے منافی پایا جانے والا 2100 لیٹر ملاوٹ شدہ دودھ موقع پر ہی ضائع کر دیا گیا۔ ڈپٹی کمشنر جہلم میر رضا اوزگن کی ہدایت پر کی گئی اس کارروائی کا مقصد انسانی زندگیوں سے کھیلنے والے عناصر کا خاتمہ کرنا ہے۔

ڈپٹی کمشنر جہلم میر رضا اوزگن نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ شہریوں کو خالص اشیائے خورونوش کی فراہمی میں رکاوٹ بننے والوں کے خلاف کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی اور ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا سلسلہ جاری رہے گا۔ انہوں نے پنجاب فوڈ اتھارٹی کو حکم دیا کہ دودھ کی فراہمی کے تمام راستوں کی مانیٹرنگ روزانہ کی بنیاد پر یقینی بنائی جائے تاکہ ملاوٹ شدہ دودھ کی ضلع میں آمد کو روکا جا سکے۔

ڈپٹی کمشنر جہلم میر رضا اوزگن کی ہدایت پر ملاوٹ مافیا کے خلاف گھیرا تنگ کر دیا گیا ہے۔ انتظامیہ نے واضح کیا ہے کہ عوامی صحت پر سمجھوتہ کرنے والے مراکز اور فراہم کنندگان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کے تحت بھاری جرمانے اور مقدمات درج کیے جائیں گے تاکہ ضلع بھر میں معیاری خوراک کی دستیابی یقینی بنائی جا سکے۔
