
ٹیکسلا (بیورو چیف طاہر محمود، سرِعام نیوز)
رمضان المبارک کی بابرکت ساعتوں میں بعد از نمازِ فجر منعقد ہونے والے دروسِ عرفانُ القرآن دینی و فکری حلقوں میں خصوصی توجہ حاصل کر رہے ہیں۔ یہ دروس محض روایتی خطابات نہیں بلکہ ایک منظم، مدلل اور مستند علمی روایت کی حیثیت رکھتے ہیں جو فہمِ قرآن کو عصرِ حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرتی ہے۔
منہاجُ القرآن سے وابستہ اسکالرز کی نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ وہ موضوع سے انحراف کے بجائے قرآن و سنت کی روشنی میں مربوط اور استدلالی انداز اختیار کرتے ہیں۔ ان کے خطابات میں جذباتیت کے بجائے علمی دلائل، مستند حوالہ جات اور فکری تسلسل نمایاں نظر آتا ہے۔
دروسِ عرفانُ القرآن میں پیش کیے جانے والے علمی مباحث نہ صرف دینی شعور کو بیدار کرتے ہیں بلکہ علم اور عمل کے مابین مضبوط ربط بھی پیدا کرتے ہیں۔ مقررین کی گفتگو سطحیت اور ابہام سے پاک، علمی ترتیب سے مزین اور فکری پختگی کی آئینہ دار ہوتی ہے۔
علمی و دینی حلقوں کے مطابق یہ دروس فہمِ دین، فکری تربیت اور اصلاحِ فکر کے حوالے سے ایک مؤثر اور باوقار ذریعہ ثابت ہو رہے ہیں، جو رمضان المبارک کی روحانی فضا کو مزید بامقصد بنا رہے ہیں۔
—
