انسانیت کی خدمت اور عزمِ نو: نازیہ صاحبہ کی فلاحی خدمات کا ایک سفر

تحریرو ترتیب : ملک حسان قذافی
معاشرے کی تعمیر و ترقی میں خواتین کا کردار ہمیشہ سے کلیدی رہا ہے، لیکن جب جذبہ خدمتِ خلق سے سرشار کوئی شخصیت میدانِ عمل میں اترتی ہے تو وہ پورے سماج کے لیے امید کی کرن بن جاتی ہے۔ اسلام آباد کے علاقے (G-15) کی رہائشی اور پاکستان سول سولجر موومنٹ کی مرکزی سیکرٹری، نازیہ صاحبہ، ایک ایسی ہی قد آور شخصیت ہیں جن کا نام آج انسانیت کی خدمت کا استعارہ بن چکا ہے۔ نازیہ صاحبہ نے نہ صرف اپنی ذاتی حیثیت میں بلکہ تنظیم کے پلیٹ فارم سے بھی خود کو "دردِ دل رکھنے والی خاتون” ثابت کیا ہے۔ ان کی خدمات کا دائرہ کار کسی ایک شعبے تک محدود نہیں بلکہ وہ مظلوم طبقے، بے سہارا بچیوں اور معذور افراد کے لیے ایک مضبوط سہارا بن کر ابھری ہیں۔
نازیہ صاحبہ کی فلاحی سرگرمیوں کا مشاہدہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ خواتین کے حقوق کا تحفظ ان کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے معاشرے کے پسے ہوئے طبقات، بالخصوص معذور افراد کی بحالی اور ان کے وقار کی بلندی کے لیے بے مثال کام کیا ہے۔ مستحق بچیوں کی شادیوں کے اخراجات کی ذمہ داری اٹھانا ہو یا کسی مظلوم کی داد رسی، وہ ہر محاذ پر صفِ اول میں نظر آتی ہیں۔ جی-15 اسلام آباد میں ان کی ذاتی کوششوں سے کئی خاندانوں کے چولہے جل رہے ہیں، جو ان کے خلوص اور جذبہِ ایثار کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ ان کا یہ ماننا ہے کہ خدمتِ خلق ہی وہ واحد راستہ ہے جس سے ہم ایک پرامن اور خوشحال پاکستان کی بنیاد رکھ سکتے ہیں۔
بطور سیکرٹری پاکستان سول سولجر موومنٹ، نازیہ صاحبہ نے تنظیم کے منشور کو عملی جامہ پہنانے میں انتھک محنت کی ہے۔ وہ عوام اور ریاستی اداروں کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے اور سماجی برائیوں کے خاتمے کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہتی ہیں۔ ان کی متحرک قیادت نے تنظیم کے فلاحی ونگ کو نئی جلا بخشی ہے، جس سے نہ صرف تنظیم کا وقار بلند ہوا ہے بلکہ عوام کا اعتماد بھی بحال ہوا ہے۔ بلاشبہ، نازیہ صاحبہ جیسی خواتین وطنِ عزیز کا فخر ہیں، جن کی بے لوث خدمات اور انسانی ہمدردی کے جذبے کو خراجِ تحسین پیش کرنا ہم سب کی اخلاقی ذمہ داری ہے۔ ان کا یہ سفر اس بات کی دلیل ہے کہ اگر نیت صاف ہو اور عزم مصمم، تو ایک فرد بھی پورے معاشرے میں تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔
