مون سون کی بارشوں سے جہلم اور دینہ میں اربن فلڈنگ، معمولات زندگی متاثر

جہلم: مون سون کے دسویں اسپیل نے جہلم اور دینہ میں معمولات زندگی کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ اتوار کی صبح سے شروع ہونے والی بارش کے باعث شہر کی گلیاں، محلے اور سڑکیں جھیل کا منظر پیش کرنے لگی ہیں، جس سے شہری شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ کئی علاقوں میں بارش کا پانی گھروں اور دکانوں میں بھی داخل ہو گیا۔

بارش کے اعداد و شمار اور انتظامی اقدامات
محکمہ موسمیات کے مطابق، جہلم میں 136 ملی میٹر، منگلا میں 99 ملی میٹر اور سوہاوہ میں 65 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔ صرف جہلم شہر میں صبح 5 بج کر 48 منٹ سے دوپہر 2 بجے تک 132 ملی میٹر بارش ہوئی۔ اس صورتحال کے پیش نظر ضلعی انتظامیہ، ریسکیو 1122، میونسپل کمیٹی اور راولپنڈی ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کے اہلکار فیلڈ میں موجود ہیں اور نکاسی آب کے لیے تمام وسائل استعمال کر رہے ہیں۔

ڈپٹی کمشنر جہلم سید میثم عباس نے خود شہر کے مختلف علاقوں کا دورہ کر کے صورتحال کا جائزہ لیا اور نکاسی آب کے عمل کی نگرانی کی۔ ضلعی انتظامیہ کے مطابق، فی الحال تمام برساتی نالے معمول کے مطابق بہہ رہے ہیں اور سیلاب کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔

منگلا ڈیم میں پانی کی سطح میں اضافہ
محکمہ آبپاشی کے مطابق، حالیہ بارشوں کے بعد منگلا ڈیم میں پانی کی سطح بڑھ گئی ہے۔ ڈیم کا موجودہ لیول 1231 فٹ ریکارڈ کیا گیا ہے، جبکہ پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش 1242 فٹ ہے۔ ڈیم میں پانی کی آمد 40 ہزار کیوسک اور اخراج 10 ہزار کیوسک ہے۔

شہریوں کے لیے ہدایات اور آئندہ کی صورتحال
ضلعی انتظامیہ نے دریا اور برساتی نالوں کے قریب رہنے والے مکینوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہوئے محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت کی ہے۔

ریسکیو 1122 کی ٹیمیں کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے فیلڈ میں متحرک ہیں۔ محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ جہلم اور اس کے گرد و نواح میں بارش کا سلسلہ آئندہ دو دن تک جاری رہنے کا امکان ہے۔
