
جہلم: پنجاب پولیس کے ضابطہ کار پر اس وقت سوال اٹھا جب سینئر سول جج/کرمنل ڈویژن جہلم نے ایک مقدمے میں ملزم کو رہا کرتے ہوئے پولیس کو قواعد کی خلاف ورزی کرنے پر محکمانہ کارروائی کا حکم دیا۔ مقدمہ نمبر 786/25 تھانہ سٹی جہلم صدر میں مورخہ 30 نومبر 2025 کو دفعہ 89-A پنجاب موٹر وہیکلز (چوتھی ترمیم) آرڈیننس 2025-89-A کے تحت درج کیا گیا تھا، جس میں شہری احسن علی ولد سید حسن رضا پر موٹر سائیکل چلاتے وقت حفاظتی ہیلمٹ نہ پہننے کا الزام تھا۔
ایف آئی آر کے متن کے مطابق، ملزم پر الزام لگایا گیا تھا کہ وہ موٹرسائیکل کو بغیر ہیلمٹ کے چلا رہا تھا، جس پر دفعہ 89-A کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔ ملزم کو پولیس حراست میں لیا گیا اور 1 دسمبر 2025 کو عدالت میں پیش کیا گیا جہاں پولیس نے 14 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی۔
عدالت نے 1 دسمبر 2025 کو اپنے حکم (آرڈر/01.12.2025) میں اس مقدمے کا گہرائی سے جائزہ لیا۔ سینئر سول جج/کرمنل ڈویژن، اظھر اقبال نے ریمارکس دیے کہ جس دفعہ (89-A) کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے، وہ قابلِ دست اندازیِ پولیس (Cognizable) نہیں ہے، بلکہ دفعہ 89-C ہی قابلِ دست اندازیِ پولیس ہے۔ آرڈیننس کی دفعہ 89-C کے تحت کوئی جسمانی سزا نہیں ہے بلکہ صرف جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ چونکہ یہ جرم قابلِ دست اندازیِ پولیس نہیں تھا، لہٰذا اس معاملے میں باقاعدہ ایف آئی آر درج ہی نہیں کی جا سکتی تھی۔
عدالت نے مشاہدہ کیا کہ بظاہر مقدمے میں کوئی قابلِ سزا (prima facie) جرم نہیں بنتا اور ملزم کو ریمانڈ پر رکھنے کا کوئی قانونی جواز موجود نہیں۔ عدالت نے ملزم احسن علی کو فوری طور پر رہا کرنے کا حکم دیا اور پولیس کو ہدایت کی کہ ضبط شدہ موٹر سائیکل کو تصدیق کے بعد اصلی مالک یا قابض کو واپس کر دیا جائے۔

اس فیصلے کے ساتھ ہی عدالت نے پولیس کے اس عمل کو بنیادی قانونی ضابطہ کار کی صریح خلاف ورزی قرار دیا۔ عدالت نے ڈپٹی پولیس آفیسر (DPO) راولپنڈی اور ڈپٹی پولیس آفیسر (DPO) جہلم کو بھی ہدایت کی کہ وہ اس ایف آئی آر کو درج کرنے میں ملوث اہلکاروں کے خلاف محکمانہ کارروائی شروع کریں۔
