ٹریفک قوانین پر سختی: حکومتی اقدامات کے بعد لائسنس مراکز پر رش، عوام کا تعاون بڑھ گیا
جہلم (نمائندہ خصوصی): ڈرائیونگ لائسنس اور ہیلمٹ کے استعمال کو یقینی بنانے کے لیے ٹریفک پولیس کی جانب سے شروع کی گئی سخت مہم کے مثبت اثرات سامنے آنے لگے ہیں

جہاں ایک طرف عوام نے برسوں کی ٹال مٹول کی عادت ترک کرتے ہوئے قوانین کی پابندی شروع کر دی ہے، وہیں دوسری جانب لائسنسنگ مراکز پر غیر معمولی رش نے انتظامیہ کے لیے چیلنجز کھڑے کر دیے ہیں۔ حکومت کے سخت فیصلوں، بالخصوص بھاری جرمانوں اور قانونی کارروائیوں کے خوف نے، بڑی تعداد میں شہریوں کو ہیلمٹ پہننے اور اپنے قانونی دستاویزات کو مکمل کروانے پر مجبور کر دیا ہے، جسے ماہرین عوامی بھلائی کی جانب ایک اہم قدم قرار دے رہے ہیں۔

رش پر حکومتی ایکشن اور اضافی سہولیات:
ٹریفک پولیس کے اقدامات کے نتیجے میں لائسنس دفاتر پر طویل قطاروں اور شہریوں کو درپیش مشکلات کا نوٹس لیتے ہوئے، صوبائی حکومت نے ہنگامی بنیادوں پر انتظامی اقدامات کا اعلان کیا ہے۔ ترجمان حکومت نے یقین دہانی کرائی ہے کہ سرد موسم میں عوام کی پریشانی کے خاتمے کے لیے تمام بڑے اضلاع میں اضافی کاؤنٹرز فوری طور پر قائم کیے جا رہے ہیں۔

مزید برآں، لائسنس کے اجراء کے عمل کو تیز کرنے کے لیے موجودہ عملے کے اوقاتِ کار کو بڑھا کر دو شفٹوں میں کام شروع کر دیا گیا ہے، اور انتظامی امور کو سنبھالنے کے لیے دیگر محکموں سے اہلکاروں کو عارضی طور پر تعینات کیا جا رہا ہے۔ ٹریفک پولیس کا عملہ سخت دباؤ میں کام کر رہا ہے اور ان کی کوششیں قابل تعریف ہیں کیونکہ ان کا بنیادی مقصد سڑکوں پر ایک محفوظ اور نظم و ضبط والی ثقافت کو فروغ دینا ہے۔

مقصد: محفوظ سڑکیں اور جانوں کا تحفظ:
حکومتی حکام نے واضح کیا ہے کہ اگرچہ یہ سختی عارضی پریشانی کا باعث ہے، مگر اس کا حتمی مقصد سڑکوں پر ہلاکت خیز حادثات کی شرح کو کم کرنا اور انسانی جانوں کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔ عوام کی جانب سے اب لائسنس بنوانے اور ہیلمٹ پہننے میں بڑھتا ہوا رجحان اس بات کی علامت ہے کہ حکومتی سختی درحقیقت ایک ٹوٹل عوامی مفاد میں ہے اور عوام اب اس امر کو تسلیم کرنے لگے ہیں۔

