
(بیورو چیف: طاہر محمود سر عام نیوز)
منہاج یونیورسٹی لاہور میں جاری اسٹوڈنٹس ویک 2025 کے موقع پر مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی نامور شخصیات نے طلبہ سے خطاب کیا اور ان کی فکری، تخلیقی اور قائدانہ صلاحیتوں کو اجاگر کرنے پر زور دیا۔
پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے اپنے خطاب میں کہا کہ اسٹوڈنٹس ویک طلبہ کے لیے تخلیقی، فکری اور قیادی صلاحیتوں کو نکھارنے کا ایک بہترین پلیٹ فارم ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم صرف کتابوں تک محدود نہیں بلکہ سوچ، جذبے اور عمل کا متوازن امتزاج ہے۔ ہم نصابی اور غیر نصابی سرگرمیاں کردار سازی اور ہمہ جہت شخصیت کی تعمیر میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ منہاج یونیورسٹی لاہور علمی برتری کے ساتھ اخلاقی تربیت کو بھی یقینی بناتی ہے۔
وائس چانسلر منہاج یونیورسٹی لاہور پروفیسر ڈاکٹر ساجد محمود شہزاد نے معزز مہمانوں کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ اسٹوڈنٹس ویک کا مقصد طلبہ کو صحت مند، مثبت اور مسابقتی تعلیمی ماحول فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے منتظمین کی کاوشوں کو سراہا اور طلبہ کو ہفتہ بھر سرگرمیوں میں بھرپور شرکت کی تلقین کی۔
معروف گلوکار اور سماجی رہنما ابرار الحق نے نوجوانوں کو قوم کا اصل سرمایہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ طلبہ مثبت سرگرمیوں میں حصہ لیں، نظم و ضبط اپنائیں، محنت کو شعار بنائیں اور معاشرے میں ذمہ دارانہ کردار ادا کریں۔
اداکارہ جیا علی نے منہاج یونیورسٹی لاہور کے تعلیمی ماحول اور انفراسٹرکچر کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ تخلیقی اور ثقافتی سرگرمیاں طلبہ کے اعتماد میں اضافہ اور فکری وسعت کا باعث بنتی ہیں۔
سماجی کارکن فاطمہ علی بٹ نے اپنے خطاب میں نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ سماجی ذمہ داریوں کو سمجھیں، کمیونٹی سروس میں حصہ لیں اور مثبت سماجی تبدیلی کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔
اسٹوڈنٹس ویک 2025 کی یہ سرگرمیاں طلبہ میں خود اعتمادی، قیادت اور مثبت سوچ کو فروغ دینے میں اہم ثابت ہو رہی ہیں۔
