
تحریر و ترتیب: محمد زاہد مجید انور
ڈسٹرکٹ پاپولیشن اینڈ ہیلتھ ویلفیئر آفیسر ٹوبہ ٹیک سنگھ میاں محمد نعیم نے عوام الناس کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ موسم میں پھیلنے والا جسے عرفِ عام میں “سپر فلو” کہا جا رہا ہے، درحقیقت انفلوئنزا (نزلہ و زکام) کی ایک شدید اور تیزی سے پھیلنے والی لہر ہے۔ یہ بیماری عام فلو کے مقابلے میں زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتی ہے، خصوصاً ان افراد کے لیے جن کی قوتِ مدافعت کمزور ہو۔میاں محمد نعیم کے مطابق طبی اصطلاح میں اس کیفیت کو عموماً انفلوئنزا وائرس کی نئی تبدیل شدہ اقسام، بالخصوص H3N2 سے منسوب کیا جاتا ہے۔ یہ وائرس تیزی سے پھیلتا ہے اور بچوں، بزرگوں اور دائمی امراض میں مبتلا افراد کے لیے سنگین پیچیدگیاں پیدا کر سکتا ہے۔ اسی لیے اسے نظر انداز کرنا ہرگز دانش مندی نہیں۔انہوں نے بتایا کہ سپر فلو کی عام علامات میں تیز بخار کے ساتھ کپکپی، شدید جسمانی درد، غیر معمولی تھکن، خشک کھانسی، گلے میں سوزش، ناک کا بہنا یا بند ہونا اور سر میں شدید درد شامل ہیں۔ بعض کیسز میں، خاص طور پر بچوں میں، قے یا اسہال جیسی علامات بھی سامنے آ سکتی ہیں جو مریض کی حالت کو مزید بگاڑ دیتی ہیں۔ڈسٹرکٹ پاپولیشن اینڈ ہیلتھ ویلفیئر آفیسر کا کہنا تھا کہ اس بیماری سے بچاؤ کے لیے احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل کرنا ناگزیر ہے۔ سالانہ فلو ویکسین لگوانا اس بیماری سے تحفظ کا سب سے مؤثر ذریعہ ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ صابن سے بار بار ہاتھ دھونا، بیمار افراد سے مناسب فاصلہ رکھنا، پرہجوم مقامات پر ماسک کا استعمال اور ذاتی صفائی کا خیال رکھنا انتہائی ضروری ہے۔ متوازن غذا، مناسب نیند اور پانی کا زیادہ استعمال قوتِ مدافعت کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔علاج کے حوالے سے میاں محمد نعیم نے واضح کیا کہ متاثرہ افراد مکمل آرام کریں اور پانی، سوپ اور تازہ جوسز کا وافر استعمال کریں تاکہ جسم میں پانی کی کمی نہ ہو۔ بخار اور درد کی صورت میں ڈاکٹر کے مشورے سے ادویات، مثلاً پیراسیٹامول، استعمال کی جا سکتی ہیں۔ تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ چونکہ یہ بیماری وائرس کی وجہ سے ہوتی ہے، اس لیے اینٹی بائیوٹکس خود سے استعمال کرنا نہ صرف بے فائدہ بلکہ نقصان دہ بھی ہو سکتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر کسی مریض کو سانس لینے میں دشواری، سینے میں درد، مسلسل یا حد سے زیادہ بخار، یا حالت بگڑنے کے آثار نظر آئیں تو فوری طور پر قریبی ہسپتال یا مستند ڈاکٹر سے رجوع کیا جائے۔ بروقت تشخیص اور علاج ہی پیچیدگیوں سے بچاؤ کا واحد راستہ ہے۔آخر میں میاں محمد نعیم نے عوام پر زور دیا کہ وہ افواہوں پر کان دھرنے کے بجائے مستند ذرائع سے رہنمائی حاصل کریں اور عالمی ادارہ صحت (WHO) کی ہدایات پر عمل کریں۔ موجودہ حالات میں اجتماعی ذمہ داری کا تقاضا ہے کہ ہم نہ صرف اپنی بلکہ اپنے اردگرد موجود افراد کی صحت کا بھی خیال رکھیں، کیونکہ احتیاط ہی اس بیماری کے خلاف سب سے مضبوط ہتھیار ہے۔
