حق کی فتح: حافظ اعجاز جنجوعہ کے خلاف جھوٹا مقدمہ خارج، پولیس نے بے گناہ قرار دے دیا

اسلام آباد (رپورٹ ملک حسان)
اسلام آباد کے تھانہ شہزاد ٹاؤن میں درج ایک مقدمے کی تفتیش کے بعد پولیس نے حافظ اعجاز جنجوعہ کو مکمل طور پر بے گناہ قرار دیتے ہوئے ان کا نام مقدمے سے خارج کرنے کی سفارش کر دی ہے۔ پولیس کی ضمنی رپورٹ کے مطابق، زمین کے لین دین کے جس تنازع میں حافظ اعجاز جنجوعہ کو ملوث کرنے کی کوشش کی گئی تھی، اس سے متعلقہ تحریری معاہدوں (اشٹام پیپرز) اور گواہوں کے بیانات سے یہ ثابت ہو گیا ہے کہ موصوف کا اس معاملے سے کوئی تعلق نہ تھا۔
واقعات کے مطابق، مدعی مقدمہ سید توقیر حسین شاہ نے محمد عرفان کیانی اور دیگر کے خلاف زمین کے سودے میں مبینہ خورد برد کا الزام عائد کیا تھا، جس میں سیاسی و ذاتی عناد کی بنا پر حافظ اعجاز جنجوعہ کو بھی گھسیٹنے کی کوشش کی گئی۔ تاہم، دورانِ تفتیش پولیس (SI/SHO) نے پایا کہ زمین کی خرید و فروخت کا براہِ راست معاہدہ فریقین کے درمیان تھا اور کسی بھی قانونی دستاویز یا موقع پر حافظ اعجاز جنجوعہ کا کوئی کردار یا مالی لین دین ثابت نہیں ہو سکا۔ تفتیشی رپورٹ میں واضح کیا گیا کہ "سفید پوش” شہری کو جھوٹے الزامات کے ذریعے داغدار کرنے کی کوشش کی گئی، جس پر پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ان کے وارنٹ گرفتاری منسوخ کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
اس حوالے سے عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ مقدس ہستیوں کے نام اور سیاسی اثر و رسوخ کو ذاتی مفادات اور جھوٹے مقدمات کے لیے استعمال کرنا ایک انتہائی گھٹیا عمل ہے۔ حقائق سامنے آنے کے بعد یہ ثابت ہو گیا ہے کہ اوچھے ہتھکنڈوں اور جھوٹی ایف آئی آرز کے ذریعے عزت دار شہریوں کو مرعوب نہیں کیا جا سکتا۔ حافظ اعجاز جنجوعہ کے حامیوں نے اس فیصلے کو "حق کی فتح اور باطل کی شکست” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ جسے اللہ عزت دے، اسے چند مفاد پرست لوگ نقصان نہیں پہنچا سکتے۔
