سوشل میڈیا سکالر انجنیئر محمد علی مرزا کے خلاف ایک اور درخواست ڈی پی او جہلم کو دے دی گئی

سوشل میڈیا سکالر انجنیئر محمد علی مرزا کے خلاف ایک اور درخواست ڈی پی او جہلم کو دے دی گئی
مدعی ذو الفقار علی ولد امانت علی ریٹائر ڈ 2 3 ملٹر پولیس جی ایچ کیو راوالپنڈی عقب حسین فلور ملز جاده جہلم کا رہائشی و سکونتی ہے
حضور والا سائل نے مورخہ 24 اگست 2025 کو انجینئر مرزا محمد علی کا ایک انٹر ویو فیس بک پر بذریعہ موبائل نمبر 0331-9083997 دیکھا اور سنا جس میں میرے ساتھ کچھ لوگ موجود تھے
جن میں سے مسمی چوہدری محمد بشارت ولد چوہدری نذیر احمد ، وقاص علی ولد ذو الفقار علی اور دیگر موجود تھے انٹرویو میں انجینئر محمد علی مرزا میں نبی پاک حضرت محمد کے روزہ پاک پر بنے گنبد خضرا کو خدانخواستہ ہٹانے اور (گرانے) کا کہہ کر اور دیگر انٹرویوز میں بھی نبی پاک کے بارے میں نازیبا الفاظ استعمال کئے اور اکثر کرتا رہتا ہے
اپنی طرف سے من گھڑت باتیں اپنی اکیڈمی میں بچوں اور لوگوں کو بتاتا ہے جس کا قرآن وحدیث میں کوئی ذکر نہ ہے اس طرح اسلام کے خلاف لوگوں کی ذہن سازی کرتا ہے
بعد ازاں سوشل میڈیا پر انٹر ویو زاور بیان وائرل کر دیتا ہے جس سے سائل اور کروڑوں مسلمانوں کی دل آزاری ہوئی ہے اور معاشرے اور ملک میں بے امنی پیدا ہوئی ہے اور مزید پیدا ہونے کا خدشہ ہے اس لئے انجینئر مرزا محمد علی کے خلاف زیر دفعہ 295 اور 298 اے کے تحت ایف آئی آر درج فرمائی جائے
اس کی اکیڈمی اور سوشل میڈیا ہمیشہ ہمیشہ کے لئے پاکستان میں بند فرمایا جائے کیونکہ انجینئر مرزا محمد علی نے اقلیتوں کے خلاف باتیں کر کے مابین مذاہب تفرقہ ڈالنے کی کوشش کی اور ملک میں فسادات کروانا چاہتا ہے۔
حضور سے التماس ہے کہ مرزا محمد علی ولد محمد ارشد سکنہ مشین محلہ نمبر 1 جہلم کے خلاف ایف آئی آر زیر تحریر دفعات کے تحت درج فرمائی جائے۔
( نیچے دیئے گئے لنک پر کلک کریں)
جہلم میں معروف مذہبی اسکالر انجینئر محمد علی مرزا گرفتاری اور تحریک لبیک پاکستان کے علماء کا رد عمل
