سول ہسپتال جہلم میں پارکنگ مافیا کی مبینہ غنڈہ گردی؛ مریض چھوڑ کر آنے والے شہری سے بدتمیزی اور غیر قانونی وصولی

جہلم (رپورٹ: زینب طاہر لیڈی کرائم رپورٹر)
سول ہسپتال جہلم میں پارکنگ ٹھیکیدار کے عملے کی جانب سے شہریوں کے ساتھ بدسلوکی اور غیر قانونی طور پر پرچی فیس کی وصولی کا سنگین واقعہ سامنے آیا ہے۔ شمالی محلہ جہلم کے رہائشی ساجد مسعود ولد خالد مسعود مرزا نے متعلقہ حکام کو دی گئی اپنی تحریری درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ مورخہ 11 فروری 2026 کو دن 11 بج کر 40 منٹ پر وہ ایک مریض کو ہسپتال چھوڑنے گئے۔ واپسی پر مین گیٹ پر موجود پارکنگ ٹھیکہ کے عملے نے انہیں زبردستی روک لیا اور پرچی فیس کا مطالبہ کیا۔ شہری کا کہنا ہے کہ انہوں نے عملے کو باور کرایا کہ انہوں نے گاڑی پارکنگ اسٹینڈ میں کھڑی ہی نہیں کی بلکہ صرف مریض کو ایمرجنسی گیٹ پر ڈراپ کر کے واپس آ رہے ہیں، لہٰذا ان پر فیس لاگو نہیں ہوتی۔درخواست گزار نے الزام عائد کیا ہے کہ فیس کی ادائیگی سے انکار پر پارکنگ عملے نے آپے سے باہر ہوتے ہوئے ان کے ساتھ انتہائی نازیبا اور غیر اخلاقی زبان استعمال کی اور سنگین نتائج کی دھمکیاں دیتے ہوئے جھگڑا شروع کر دیا۔ متاثرہ شہری نے اپنی درخواست میں واضح کیا ہے کہ ہسپتال کے احاطے میں پارکنگ اسٹینڈ الگ جگہ پر واقع ہے جہاں پرچی فیس لی جانی چاہیے، لیکن ٹھیکیدار کا عملہ ہر آنے جانے والے مریض اور ان کے لواحقین سے راستے میں ہی زبردستی فیس وصول کر کے مالی و اخلاقی جرم کا مرتکب ہو رہا ہے۔سول ہسپتال جیسے حساس عوامی مقام پر پارکنگ عملے کی یہ روش نہ صرف انتظامیہ کی نااہلی کو ظاہر کرتی ہے بلکہ غریب مریضوں اور ان کے لواحقین کے لیے ذہنی اذیت کا باعث بھی ہے۔ قانون کے مطابق پارکنگ فیس صرف مخصوص اسٹینڈ کے استعمال پر وصول کی جا سکتی ہے، محض گزرنے یا مریض کو اتارنے پر فیس کا مطالبہ سراسر غیر قانونی ہے۔ عوامی حلقوں نے ضلعی انتظامیہ اور محکمہ صحت کے اعلیٰ حکام سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ پارکنگ اسٹینڈ کے عملے کے خلاف فوری قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے اور شہریوں کو اس خود ساختہ "ٹول ٹیکس” اور بدتمیزی سے نجات دلائی جائے۔
